ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / قومی تعلیمی پالیسی مرتب کرنے کے لئے بنگلور کے کستوری رنگن کی قیادت میں نئی کمیٹی کی تشکیل کرناٹک سے مزید دو اراکین کمیٹی میں شامل

قومی تعلیمی پالیسی مرتب کرنے کے لئے بنگلور کے کستوری رنگن کی قیادت میں نئی کمیٹی کی تشکیل کرناٹک سے مزید دو اراکین کمیٹی میں شامل

Mon, 03 Jul 2017 15:10:35    S.O. News Service

بنگلور2 ؍جولائی(ایس او نیوز) کرناٹک میں تعلیم سے متعلق بعض اہم ذمہ داریوں کو کامیابی کے ساتھ نبھانے کے بعد ریاست کے تین مشہور ماہرین تعلیم اب ملک کی تعلیمی پالیسی کو نیا رخ دینے کے لئے قومی تعلیمی پالیسی پینل میں پہنچ گئے ہیں۔مرکزی حکومت کی وزارت انسانی وسائل کی جانب سے تشکیل کردہ اس پینل کی قیادت کرناٹک نالج کمیشن کے چیر مین اور جواہر لال یونیورسٹی کے چانسلر کرشنا سوامی کستوری رنگن کریں گے۔انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) کے سابق چیر مین کستوری رنگن جواہر لال نہرو سنٹر فار ایڈوانسڈ ریسرچ کے اعزازی پروفیسر بھی ہیں اور انسٹیٹیوٹ آف ایڈوانسڈ اسٹڈیز بنگلور کے سابق پروفیسر رہ چکے ہیں۔کرناٹک اسٹیٹ انوویشن کونسل کے سابق رکن سکریٹری ایم کے شری دھر، جو پہلے کرناٹک نالج کمیشن سے بھی جڑے ہوئے تھے وہ بھی اس پینل کے رکن نامزد کئے گئے ہیں ۔ایم کے شری دھر بنگلور یونیورسٹی میں کینرا بینک اسکول آف منیجمنٹ اسٹڈیز میں پروفیسر تھے۔ریاست کرناٹک سے تعلیمی پالیسی پینل کے تیسرے رکن ٹی وی کٹی منی ہیں جو لسانیات کے ماہر اور اندرا گاندھی نیشنل ٹرائبل یونیورسٹی، امر کنٹک کے وائس چانسلر ہیں،ان کا تعلق شمالی کرناٹک کے کوپل ضلع سے ہے۔شری دھر نے کہا کہ ایک مضبوط تعلیمی پالیسی کی ترتیب کے لئے ہر ممکن کوشش کی جائے گی، تعلیمی نظام میں تبدیلی کی ضرورت کو واضح کرتے ہوئے شری دھر نے کہا کہ’’مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ اس اہم ذمہ داری کے لئے میرا انتخاب کیا گیا ہے، ملک کے تعلیمی نظام کو بہت ساری تبدیلیوں کی ضرورت ہے اور تعلیمی پالیسی کی ترتیب سے متعلق پینل کے ارکان کی حیثیت سے ہم ان تمام امور پر بات کریں گے تاکہ ایک مضبوط تعلیمی پالیسی ترتیب دی جا سکے‘‘۔نیا پینل دو سال قبل مرکزی حکومت کی وزارت انسانی وسائل ہی کی طرف سے تشکیل دی گئی تعلیمی پالیسی کمیٹی کی جگہ لے گا جس کی قیادت سابق کابینہ سکریٹری ٹی ایس آر سبرا منین کر رہے تھے۔ذرائع کے مطابق سبرا منین کمیٹی رپورٹ کی سفارشات پر بھی نئی کمیٹی غور کرے گی اور حسب ضرورت انہیں استعمال کیا جائے گا۔


Share: